حکومت کا عوام کے لیے نچلی سطح پر ریلیف: پیٹرول کی قیمت میں 1.65 روپے فی لیٹر کمی
وزارتِ توانائی اور اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا؛ پیٹرول کی نئی قیمت 389.14 روپے فی لیٹر مقرر۔
خبر کا تفصیلی پس منظر اور سرکاری نوٹیفکیشن
حکومتِ پاکستان نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی کمی کا اعلان کیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 1.65 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 389.14 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں بھی 88 پیسے فی لیٹر کی معموی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 424.04 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 19 ستمبر سے ہو چکا ہے اور یہ ریٹ اگلے تین روز یعنی 21 ستمبر تک نافذ العمل رہیں گے۔
عالمی منڈی کے حالات اور قیمتوں کے تعین کی پالیسی
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں میں یہ ترمیم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور پریمیئم کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی استحکام اور روپے کی قدر میں بہتری کی بدولت درآمدی لاگت میں معمولی کمی واقع ہوئی تھی، جسے بلا تاخیر عوام تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا موازنہ (جدول)
درج ذیل جدول میں پیٹرولیم مصنوعات کی سابقہ اور موجودہ نرخوں کا موازنہ پیش کیا گیا ہے:
| مصنوعات (Product) | سابقہ قیمت (روپے) | کمی (روپے) | نئی قیمت (روپے) | مدتِ اطلاق |
|---|---|---|---|---|
| پیٹرول (Petrol) | 390.79 | -1.65 | 389.14 | 19 تا 21 ستمبر |
| ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) | 424.92 | -0.88 | 424.04 | 19 تا 21 ستمبر |
عوامی ردِعمل اور روزمرہ زندگی پر اثرات
عوامی حلقوں کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا خیرمقدم تو کیا گیا ہے، لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش اور ترسیلی اخراجات میں بھاری اضافے کے مقابلے میں 1.65 روپے کی کمی انتہائی محدود ہے۔ بائیک سواروں اور روزانہ سفر کرنے والے نوکری پیشہ افراد کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں 380 روپے سے زائد ہونا معاشی طور پر ایک بڑا بوجھ ہے۔
ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹرز کا موقف
ڈیزل کی قیمت میں صرف 88 پیسے کی کمی کے باعث ٹرانسپورٹ مالکان اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ اس سے کرایوں میں فوری کمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ڈیزل زراعت اور مال برداری کی صنعت میں بنیادی ایندھن کا درجہ رکھتا ہے، اور جب تک ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی نہیں آتی، تب تک منڈیوں میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیلی لاگت میں بڑی کمی مشکل ہے۔
معاشی ماہرین کا تجزیہ اور مستقبل کا منظرنامہ
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا محدود ریلیف دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے طے شدہ اہداف اور لیوی مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینے کی متوازن پالیسی پر گامزن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں میں مزید سست روی آتی ہے تو اگلے پندرہ روزہ جائزے میں مزید ریلیف کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں میں کمی کا حجم محدود ہے، لیکن مسلسل اضافے کے رجحان کا رکنا معاشی استحکام کی سمت ایک مثبت اشارہ ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اس کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے انتظامی اقدامات یقینی بنائے۔
No comments yet. Be the first to comment!