حوثی (Houthi) یمن کا ایک مسلح، سیاسی اور مذہبی گروہ ہے، جس کا باقاعدہ نام 'انصار اللہ' ہے۔ ان کا تعلق اسلام کے شیعہ زیدی فرقے سے ہے، جو یمن کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں۔
یہ کون ہیں اور کہاں سے آئے؟
- آغاز: حوثی تحریک کا آغاز 1990 کی دہائی میں یمن کے شمالی پہاڑی صوبے 'صعدہ' (Saada) سے ہوا، جو سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔
- بانی: اس تحریک کی بنیاد 'حسین بدر الدین الحوثی' نے رکھی تھی۔ 2004 میں یمنی فوج کے ہاتھوں ان کی ہلاکت کے بعد اس گروہ کو ان کے نام کی نسبت سے "حوثی" کہا جانے لگا۔ اب اس کی قیادت ان کے بھائی عبدالملک الحوثی کر رہے ہیں۔
- مقصد: ابتدا میں اس کا مقصد زیدی شیعہ روایات کا احیاء، اپنے علاقے میں معاشی پسماندگی کا خاتمہ اور یمن میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔
یہ جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟
- حکومتی ناانصافی کے خلاف بغاوت: شروع میں (2004 سے 2010 تک) انہوں نے یمن کی اس وقت کی حکومت (صدر علی عبداللہ صالح) کے خلاف چھ جنگیں لڑیں، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ حکومت ان کے علاقے کو معاشی اور سیاسی طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔
- دارالحکومت پر قبضہ: 2014 میں حوثیوں نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور کرپشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے نتیجے میں یمن میں ایک طویل خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
- مغربی سامراج کی مخالفت: حوثیوں کا نظریہ امریکہ اور اسرائیل کی سخت مخالفت پر مبنی ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بحیرہ احمر (Red Sea) میں تجارتی جہازوں پر حملے کیے ہیں تاکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر معاشی دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ سعودی عرب کے لیے ’بھیانک خواب‘ کیوں ہیں؟
- سرحدی خطرہ: یمن اور سعودی عرب کی سرحد بہت طویل ہے۔ حوثیوں جیسی ایک مضبوط اور مسلح ملیشیا کا سعودی سرحد کے بالکل ساتھ کنٹرول حاصل کرنا سعودی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
- ایران کی پراکسی: سعودی عرب حوثیوں کو خطے میں اپنے سب سے بڑے حریف، ایران، کی پراکسی فورس کے طور پر دیکھتا ہے۔ سعودی عرب کا ماننا ہے کہ ایران انہیں اسلحہ، ٹریننگ اور فنڈز فراہم کرتا ہے تاکہ سعودی عرب کو اس کی جنوبی سرحد پر الجھا کر رکھا جا سکے۔
- معیشت اور انفراسٹرکچر پر حملے: حوثیوں نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کے اندرونی شہروں، ہوائی اڈوں اور سب سے بڑھ کر آرامکو (Aramco) کی تیل کی تنصیبات پر انتہائی تباہ کن اور درست حملے کیے ہیں۔ ان حملوں نے ثابت کیا کہ حوثی سعودی عرب کی تیل پر مبنی معیشت کو بھاری نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیا آپ یمن کے موجودہ حالات یا اس تنازعے میں عالمی طاقتوں کے کردار کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں؟
No comments yet. Be the first to comment!