HIV/AIDS کیا ہے اور پاکستان میں اس کی صورتحال کیا ہے؟
HIV ایک وائرس ہے جو انسان کے مدافعتی نظام، خاص طور پر CD4 خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر HIV کا علاج نہ کیا جائے تو وقت کے ساتھ مدافعتی نظام بہت کمزور ہو سکتا ہے اور AIDS کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم آج کے دور میں HIV کا مؤثر علاج موجود ہے۔ اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) کے ذریعے وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور متاثرہ شخص لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
پاکستان میں HIV کے کتنے کیسز ہیں؟
پاکستان میں رجسٹرڈ کیسز اور HIV کے ساتھ زندگی گزارنے والے اندازاً افراد کی تعداد میں فرق پایا جاتا ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق دسمبر 2025 تک 84,421 HIV کیسز رجسٹرڈ تھے، جبکہ تقریباً 60,785 افراد ART علاج حاصل کر رہے تھے۔
مئی 2026 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ کیسز کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔ اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کا HIV ٹیسٹ نہیں ہو پاتا یا ان کے کیسز قومی نظام میں رجسٹر نہیں ہوتے۔
پاکستان میں HIV سب سے زیادہ کہاں پایا جاتا ہے؟
HIV پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہے، تاہم بڑے شہروں اور بعض مخصوص علاقوں میں کیسز کی رپورٹنگ زیادہ سامنے آتی ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں HIV کے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
سندھ کے لاڑکانہ اور رتوڈیرو میں بھی ماضی میں HIV کے بڑے پھیلاؤ کے واقعات سامنے آئے، خاص طور پر بچوں میں HIV کے کیسز نے طبی آلات، غیر محفوظ انجیکشن اور صحت کے نظام میں احتیاط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی شہر کو پاکستان کا "سب سے زیادہ HIV والا شہر" قرار دیتے وقت رجسٹرڈ کیسز، ٹیسٹنگ اور اصل متاثرہ افراد کے تخمینوں میں فرق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
HIV کیسے پھیلتا ہے؟
HIV متاثرہ خون، جنسی رطوبتوں اور ماں کے دودھ کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے اہم ذرائع میں شامل ہیں:
- غیر محفوظ جنسی تعلق۔
- متاثرہ خون کی منتقلی۔
- آلودہ یا استعمال شدہ سرنج اور سوئی کا استعمال۔
- غیر جراثیم سے پاک طبی یا دانتوں کے آلات۔
- متاثرہ ماں سے بچے میں منتقلی، خاص طور پر حمل، پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران۔
HIV کن چیزوں سے نہیں پھیلتا؟
HIV عام میل جول سے نہیں پھیلتا۔ کسی HIV سے متاثرہ شخص کے ساتھ:
- ہاتھ ملانے سے۔
- گلے ملنے سے۔
- ایک ساتھ بیٹھنے سے۔
- ایک ہی میز پر کھانا کھانے سے۔
- عام برتن استعمال کرنے سے۔
- مچھر کے کاٹنے سے۔
HIV منتقل نہیں ہوتا۔
اس لیے HIV سے متاثرہ افراد کے ساتھ نفرت یا امتیازی سلوک کے بجائے انہیں علاج، معلومات اور معاشرتی تعاون فراہم کرنا چاہیے۔
HIV کی علامات کیا ہیں؟
HIV کے ابتدائی مرحلے میں بعض افراد کو فلو جیسی علامات ہو سکتی ہیں، جبکہ کچھ افراد میں کافی عرصے تک کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
بعد کے مراحل میں یہ علامات سامنے آ سکتی ہیں:
- بار بار بخار۔
- رات کو زیادہ پسینہ آنا۔
- وزن کم ہونا۔
- مسلسل تھکن۔
- بار بار انفیکشن ہونا۔
- جلد کے بعض مسائل یا انفیکشن۔
- لمبے عرصے تک بیماری یا کمزوری رہنا۔
صرف علامات کی بنیاد پر HIV کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ HIV کی تصدیق ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔
کیا HIV کا علاج ممکن ہے؟
ابھی ایسا علاج موجود نہیں جو HIV وائرس کو مکمل طور پر جسم سے ختم کر دے، لیکن ART علاج وائرس کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کر سکتا ہے۔
اگر مریض ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق باقاعدگی سے علاج لے تو مدافعتی نظام کو محفوظ رکھنے، صحت مند زندگی گزارنے اور وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت مختلف مراکز پر HIV کی تشخیص، علاج اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
HIV سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
HIV سے بچاؤ کے لیے:
- محفوظ جنسی طریقوں کو اپنائیں۔
- ضرورت کے مطابق کنڈوم استعمال کریں۔
- خون لگوانے سے پہلے خون کی اسکریننگ یقینی بنائیں۔
- ہمیشہ نئی اور جراثیم سے پاک سرنج استعمال کریں۔
- طبی اور دانتوں کے آلات کی مناسب جراثیم کشی یقینی بنائیں۔
- خطرہ محسوس ہو تو HIV ٹیسٹ کروائیں۔
- حاملہ خواتین مناسب طبی مشورے کے تحت HIV ٹیسٹ کروائیں۔
- HIV سے متاثرہ شخص ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ART علاج جاری رکھے۔
اہم بات
HIV/AIDS صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ آگاہی کا بھی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں رجسٹرڈ کیسز اور اندازاً متاثرہ افراد کی تعداد کے درمیان فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیسٹنگ، جلد تشخیص اور علاج تک رسائی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
HIV سے متاثرہ شخص کو معاشرے سے الگ کرنے کے بجائے اس کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ صحیح معلومات، بروقت ٹیسٹ اور باقاعدہ علاج کے ذریعے HIV کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
No comments yet. Be the first to comment!