جب اسلام آباد واقعی ’گول‘ ہو گیا: سیاسی کنٹینرز اور جدید انتظامی حکمت عملی
پاکستان کی سیاست اور کنٹینرز کا تعلق اب اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ جیسے ہی کوئی سیاسی تحرک یا احتجاج کا امکان پیدا ہوتا ہے، دارالحکومت کے راستے لوہے کی مضبوط دیواروں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ مزاحیہ تصویر اسی سیاسی روایت پر گہرا طنز کرتی ہے۔ تصویر میں ن لیگ کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کنٹینرز کے اوپر کھڑے نظر آ رہے ہیں، جبکہ ان کے پس منظر میں فیصل مسجد سمیت پورے اسلام آباد کو رنگ برنگے کنٹینرز کے ایک باقاعدہ دائرے (Ring) سے گھیر دیا گیا ہے۔ اوپر تحریر ہے "پاکستانیوں! دنیا گول ہے اس لیے اسلام آباد کو بھی گول کر دیا ہے" اور نیچے طنزیہ سوال درج ہے "ہور کوئی ساڈے لائق؟"
پاکستان میں دھرنوں اور سیاسی مارچوں کو روکنے کے لیے کنٹینرز کا استعمال ایک قائم شدہ سیاسی و انتظامی حربہ بن چکا ہے۔ فیض آباد انٹرچینج ہو یا شاہرائے دستور، ہر اہم موڑ پر لوہے کے ان بھاری ڈبوں کی ناکہ بندی شہریوں کے لیے معمول کی بات بن چکی ہے۔ تصویر میں شہر کو مکمل دائرے میں سمیٹ کر دکھانا اسی 'کنٹینر کلچر' کی انتہائی شکل پر ایک لطیف تنقید ہے۔
حکومتی ناکہ بندیوں کے نتیجے میں عوام کو جن مشکلات، ٹریفک جام اور سڑکوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ خاکہ ان تلخ حقائق کو طنز و مزاح کے پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ یہ پوسٹر اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستانی قوم بڑی سے بڑی انتظامی اور سیاسی بندشوں کا جواب بھی کس طرح مزاح اور تخلیق کاری کے ذریعے دیتی ہے۔
یہ طنزیہ خاکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ شہروں کو سیل کرنے اور شہریوں کی آمد و رفت محدود کرنے کے بجائے سیاسی مسائل کا حل پائیدار مذاکرات اور جمہوری رویوں میں ہے۔ ورنہ شہر اسی طرح 'گول' ہوتے رہیں گے اور عوام مسکرا کر پوچھتے رہیں گے کہ "ہور کوئی ساڈے لائق؟"
No comments yet. Be the first to comment!