مرگی (Epilepsy): علامات، اسباب، علاج اور احتیاطی تدابیر
مرگی ایک اعصابی بیماری ہے جس میں دماغ کے برقی نظام میں غیر معمولی سرگرمی کی وجہ سے بار بار دورے پڑ سکتے ہیں۔ دورے کی علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں اچانک بے ہوشی اور جسم میں جھٹکے آتے ہیں، جبکہ بعض میں چند لمحوں کے لیے خالی نظروں سے دیکھنا، الجھن یا غیر معمولی حرکات بھی ہو سکتی ہیں۔
مرگی کی عام علامات
اچانک بے ہوش ہو جانا
جسم یا ہاتھ پاؤں میں جھٹکے آنا
چند لمحوں کے لیے ہوش یا اردگرد کی سمجھ میں کمی
غیر معمولی حرکات یا رویہ
دورے کے بعد کچھ دیر تک الجھن یا شدید تھکن
بعض افراد میں دورے سے پہلے عجیب بو، ذائقہ یا احساس محسوس ہونا
مرگی کی ممکنہ وجوہات
مرگی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً دماغی چوٹ، فالج، بعض جینیاتی عوامل، دماغی انفیکشن یا پیدائشی دماغی مسائل۔ تاہم بہت سے مریضوں میں مکمل طبی جانچ کے باوجود واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔
کن چیزوں سے احتیاط ضروری ہے؟
مرگی کے مریض کے لیے نیند پوری کرنا، دوا باقاعدگی سے لینا اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا بہت اہم ہے۔ بعض افراد میں نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، تیز چمکتی روشنی یا دوا چھوڑنے سے دورے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
غذا کا کیا کردار ہے؟
متوازن غذا، سبزیاں، پھل، مچھلی، گری دار میوے اور مناسب مقدار میں پانی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ بعض مخصوص مریضوں میں ڈاکٹر کیٹو جینک ڈائٹ تجویز کر سکتے ہیں، لیکن اسے خود سے شروع نہیں کرنا چاہیے۔
فاسٹ فوڈ، بہت زیادہ میٹھی اشیا اور غیر متوازن خوراک کو محدود رکھنا عمومی صحت کے لیے بہتر ہے۔ خوراک کو مرگی کا علاج سمجھنا درست نہیں؛ علاج کا فیصلہ ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق کرتا ہے۔
علاج اور تشخیص
مرگی کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریض کی علامات اور طبی تاریخ کے ساتھ ضرورت کے مطابق EEG، دماغ کی MRI یا دیگر ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔ بہت سے مریضوں میں دوروں کو ادویات کے ذریعے مؤثر طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بند یا تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔
دورہ پڑنے کی صورت میں کیا کریں؟
مریض کو محفوظ جگہ پر لٹائیں، آس پاس کی خطرناک چیزیں ہٹا دیں اور اسے کروٹ پر رکھیں۔ منہ میں کوئی چیز نہ ڈالیں اور زبردستی پانی یا دوا نہ پلائیں۔ اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے، بار بار دورے پڑیں، سانس میں مشکل ہو یا مریض کو شدید چوٹ لگی ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
نوٹ: ایک مرتبہ دورہ پڑ جانا لازماً مرگی کی بیماری ثابت نہیں کرتا۔ درست تشخیص کے لیے نیورولوجسٹ یا مستند ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔